عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ اضافہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس خبر نے عالمی تیل کی سپلائی اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری میں تیزی دکھائی۔
لندن میں برینٹ کروڈ فیوچرز میں 1.07 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یہ 80.43 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) فیوچرز کی قیمت میں بھی 45 سینٹ کا اضافہ ہوا اور یہ 76.22 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
حوثی باغیوں کے اس دعوے نے عالمی تیل کی سپلائی چین اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے، جہاں یہ حملہ مبینہ طور پر ہوا، تیل کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس طرح کے واقعات مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔







