روس نے یوکرین پر ایک شدید بیلسٹک میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں یوکرین کے متعدد گوداموں اور لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ روسی افواج کی جانب سے یہ حملہ یوکرین کے مختلف علاقوں میں کیا گیا، جس نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچایا۔
اس حملے کے بعد، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے مغربی اتحادیوں سے فوری طور پر دفاعی میزائلوں کی فراہمی کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ زیلنسکی نے خاص طور پر امریکی پیٹریاٹ سسٹمز کے لیے انٹرسیپٹرز کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یوکرین کو روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فضائی دفاعی نظام کی اشد ضرورت ہے۔
صدر زیلنسکی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو روس کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں کا سامنا ہے، اور ملک کے فضائی دفاعی نظام پر شدید دباؤ ہے۔ پیٹریاٹ جیسے جدید دفاعی نظام یوکرین کے لیے روسی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی کمی سے شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر کو مزید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یوکرین کی حکومت بین الاقوامی برادری سے مسلسل اپیل کر رہی ہے کہ وہ ملک کو درکار دفاعی امداد فراہم کرے۔







