منگل کے روز جیو نیوز کے معروف پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کی گئی، جس نے ایک اہم مقدمے کی تحقیقات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پروگرام میں پیش کیے گئے حقائق نے اس رپورٹ کی شفافیت اور غیر جانبداری پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو انصاف کی فراہمی کے عمل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
پروگرام کے دوران، ماہرین اور قانونی مشیروں نے میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس میں موجود کئی ایسی خامیوں کو اجاگر کیا جو بظاہر نظر انداز کی گئی تھیں۔ ان خامیوں میں زخموں کی نوعیت، موت کے وقت کا تعین، اور دیگر اہم طبی تفصیلات میں تضادات شامل تھے۔ شاہزیب خانزادہ نے اس معاملے پر گہرائی سے تحقیق پیش کی، جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ممکنہ طور پر دباؤ کے تحت رپورٹ میں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہو گی۔ یہ انکشافات اس مقدمے کی تحقیقات کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔
ان سنگین انکشافات کے بعد، میر رضا علی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری طور پر ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود یہ خامیاں نہ صرف انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ نظام میں کس قدر گہری خامیاں موجود ہیں۔ قانونی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ یہ معاملہ اب عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے اور اس پر وسیع پیمانے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس پروگرام میں سامنے آنے والی معلومات نے نہ صرف میر رضا علی کے کیس کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے بلکہ ملک میں عدالتی نظام اور طبی قانونی طریقہ کار کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے معاملات میں مکمل شفافیت اور احتساب کو یقینی نہیں بنایا جاتا، انصاف کی فراہمی کا خواب ادھورا رہے گا۔ توقع ہے کہ ان انکشافات کے بعد متعلقہ حکام اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور میر رضا علی کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے۔

