اسپین نے اٹلی کے خلاف سرحدی کنٹرول نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام سیوٹا (Ceuta) میں تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے میں شدت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اٹلی نے بھی پڑوسی ملک مراکش سے ہسپانوی علاقہ سیوٹا میں تقریباً 78,000 تارکین وطن کی آمد کے بعد اپنے سرحدی کنٹرول متعارف کروائے تھے۔
سیوٹا، جو مراکش کی سرحد پر واقع اسپین کا ایک خود مختار شہر ہے، حالیہ ہفتوں میں تارکین وطن کے ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان اور بچے شامل ہیں، بہتر زندگی کی تلاش میں مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ اس غیر معمولی آمد نے اسپین اور مراکش کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور یورپی یونین کے اندر بھی تارکین وطن کی پالیسیوں پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔
اٹلی کی جانب سے سرحدی کنٹرول کا نفاذ ممکنہ طور پر اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا تھا کہ سیوٹا بحران یورپ کے دیگر حصوں میں بھی تارکین وطن کے بہاؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، اسپین نے اٹلی کے اس اقدام کو سیوٹا کے معاملے پر جاری تنازعے میں ایک اور پیچیدگی کے طور پر دیکھا ہے۔ اسپین کا یہ تازہ اقدام یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان تارکین وطن کے بوجھ کو بانٹنے اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔




