فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے ایک مشکل سوال کا سامنا کرنا پڑا، جب ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں گے۔ یہ سوال ان کے ورلڈ کپ میں نجی حصص فروخت کرنے کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد سے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے متعدد مطالبات کا سامنا ہے۔
انفینٹینو کی جانب سے ورلڈ کپ کے مالیاتی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کو شامل کرنے کی کوششوں کو فٹ بال حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کھیل کی روح اور اس کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور یہ فیفا کے شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی کے بعد سے، انفینٹینو پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور کئی اہم شخصیات اور تنظیموں نے ان سے فیفا کی قیادت سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیفا، جو پہلے ہی مختلف تنازعات کا شکار رہی ہے، کے لیے یہ صورتحال مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ عالمی فٹ بال کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ پر استعفے کے مطالبات اس کی ساکھ اور مستقبل کے فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انفینٹینو اس دباؤ کا کس طرح سامنا کرتے ہیں اور آیا وہ اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں یا نہیں، یا پھر فیفا کی قیادت میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔






