اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے معاملے پر حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں، حکومتی قانونی ٹیم نے ایوان صدر کے حکام سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد آئینی بحران سے بچنے اور اس اہم مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی سربراہی میں حکومتی قانونی ٹیم نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مشیروں کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ یہ تعطل 28 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اجلاس کے بعد پیدا ہوا تھا، جب چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لیے تجویز کردہ پانچ ناموں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ حکومت اس معاملے پر وسیع تر مشاورت اور اتفاق رائے کے ذریعے حل چاہتی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے کہ حکومت کسی بھی صورت میں عدلیہ سے تصادم نہیں چاہتی اور آئینی طریقہ کار کے تحت اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کوششوں کا مقصد نہ صرف ججوں کی تقرری کے عمل کو بحال کرنا ہے بلکہ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان ہم آہنگی کو بھی فروغ دینا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تعطل سے بچا جا سکے۔




