کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ اب قتل کی تحقیقات میں بدل گیا ہے۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی لگنے کے زخموں کا انکشاف ہونے کے بعد کراچی پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دی ہیں۔ یہ کیس ابتدائی طور پر اغوا کے طور پر درج کیا گیا تھا، لیکن اب اس میں قتل کے الزامات بھی شامل کر دیے گئے ہیں، جس نے آن لائن حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت میر رضا کی لاش کو قبر سے نکال کر دوبارہ معائنہ کرنے کے بعد سامنے آئی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی تھی، جس پر لواحقین اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے نے کافی توجہ حاصل کی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ماہرین نے جسم پر گولی لگنے کے واضح نشانات کی تصدیق کی، جس نے کیس کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق، نئی رپورٹ کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور اب اسے قتل کے مقدمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری اور حقائق سامنے لانے کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔ اس کیس میں شامل تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ میر رضا علی کی موت کے اصل محرکات اور ذمہ داران کو بے نقاب کیا جا سکے۔
