اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک فلسطینی گاؤں میں مزید فوجی دستے روانہ کر دیے ہیں، جہاں یہودی آبادکاروں نے ایک سڑک بند کر کے تین گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ یہ پیش رفت علاقے میں جاری کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ محاصرہ ہفتے کے آخر میں شروع ہوا جب یہودی آبادکاروں نے قصرہ نامی فلسطینی گاؤں میں تین گھروں تک جانے والی مرکزی سڑک کو بند کر دیا۔ آبادکاروں کے اس اقدام نے مقامی فلسطینیوں کے لیے نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں، جس سے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے مزید دستے بھیجنے کا مقصد بظاہر علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم فلسطینی حکام نے اسے آبادکاروں کی سرگرمیوں کو مزید تقویت دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملے اور ان کے علاقوں کا محاصرہ ایک معمول بن چکا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔




