سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی ملک عمان کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے (ایران ڈیل) کے معاملے میں “راستے میں آیا” تو اسے بمباری کا نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے مقرر کردہ 60 روزہ مدت ختم ہو رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
عمان، جو کہ امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ اپنے طور پر بات چیت کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ عمان کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم سمندری راستے کی بحالی کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے میں ناکام ہے۔ ایسے میں عمان کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک اقدام سمجھا جا رہا ہے، جس پر انہوں نے یہ انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس دھمکی نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر ایک اتحادی ملک کے خلاف اس طرح کی زبان کا استعمال سفارتی تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔




