پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے ایف آئی ایچ ورلڈ کپ میں اہلیت حاصل کرنا ہمیشہ سے ایک اہم چیلنج رہا ہے، اور آئندہ عالمی کپ کے لیے بھی یہ صورتحال مختلف نہیں۔ شائقین اور ماہرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ قومی ٹیم کس طرح عالمی ہاکی کے سب سے بڑے ایونٹ میں اپنی جگہ بنا پاتی ہے۔ یہ نہ صرف ٹیم کے مورال بلکہ ملک میں ہاکی کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
عالمی کپ میں براہ راست اہلیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کو کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹیم کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی رینکنگ میں بھی تنزلی آئی ہے۔ اس صورتحال میں، ٹیم کو ایشیا کپ یا ایشین گیمز جیسے بڑے علاقائی ٹورنامنٹس میں شاندار کارکردگی دکھانی ہوگی۔ ان ٹورنامنٹس میں فتح حاصل کرنا براہ راست اہلیت کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ٹیم کو مزید مشکل راستوں سے گزرنا پڑے گا۔
عالمی کپ میں جگہ بنانے کے لیے پاکستان کے پاس بنیادی طور پر دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ ایشیا کپ یا ایشین گیمز جیت کر براعظمی چیمپئن کے طور پر براہ راست اہلیت حاصل کرنا ہے۔ دوسرا راستہ ایف آئی ایچ اولمپک کوالیفائرز (جو اکثر ورلڈ کپ کوالیفائرز کے طور پر بھی کام کرتے ہیں) میں بہترین کارکردگی دکھا کر ٹاپ ٹیموں میں شامل ہونا ہے۔ یہ دونوں راستے انتہائی مشکل ہیں اور ان میں سخت مقابلہ متوقع ہے کیونکہ عالمی ہاکی میں معیار بہت بلند ہو چکا ہے۔
پاکستانی ہاکی فیڈریشن اور کھلاڑیوں کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔ بہترین حکمت عملی، کھلاڑیوں کی تربیت، اور حکومتی سرپرستی اس مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ قوم کو امید ہے کہ قومی ہیروز ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں گے اور عالمی کپ میں اپنی جگہ پکی بنائیں گے۔







