کراچی: امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی، حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے بہانے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے ہیں جو سراسر ناجائز اور عوام دشمن ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان معاہدوں کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں اور ان میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کو بھاری منافع کمانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور گردشی قرضے کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ان ناجائز معاہدوں کی وجہ سے صارفین کو مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، خصوصاً کراچی میں جہاں بجلی کی طویل بندش معمول بن چکی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے امیر نے مزید کہا کہ یہ معاہدے نہ صرف ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ عوام کی کمر توڑ مہنگائی کا بھی ایک بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان معاہدوں پر نظرثانی کرے، شفافیت کو یقینی بنائے اور توانائی کے بحران کے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا تو جماعتِ اسلامی عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی۔

