پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں ہر پانچ میں سے صرف ایک بچے کو پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ ماہرین صحت اس کم شرح کو بچوں کی ابتدائی نشوونما اور صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ یاسمین نے اس ضمن میں زور دیا ہے کہ خواتین کو زچگی سے پہلے اور بعد میں مناسب مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔
ابتدائی گھنٹے میں ماں کا دودھ پلانا نوزائیدہ بچے کے لیے بے شمار فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ ماں کا پہلا دودھ، جسے کولوسٹرم کہا جاتا ہے، اینٹی باڈیز اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے جو بچے کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور اسے مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ عمل ماں اور بچے کے درمیان جذباتی رشتے کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کم شرح کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ہزاروں بچے ان اہم فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے ان میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت کمزور پڑ سکتی ہے اور ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ یاسمین کی تجویز کے مطابق، زچگی سے قبل ماؤں کو دودھ پلانے کی اہمیت اور صحیح طریقہ کار کے بارے میں آگاہی فراہم کی جانی چاہیے۔ اسی طرح، زچگی کے بعد بھی ماؤں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور عملی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں عملے کی تربیت، عوامی آگاہی مہمات، اور خاندانوں کی جانب سے ماؤں کی حوصلہ افزائی اس اہم مسئلے پر قابو پانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
