زمبابوے میں کاریبا جھیل میں پیش آنے والے فیری حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 93 تک پہنچ گئی ہے، جس نے اسے ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک ٹرانسپورٹ سانحہ بنا دیا ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، تاہم مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ حادثہ زمبابوے کے لیے ایک بڑا قومی صدمہ ہے، جہاں اس سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ حادثہ نہیں دیکھا گیا۔ امدادی ٹیمیں، جن میں مقامی غوطہ خور اور بحریہ کے اہلکار شامل ہیں، جھیل کے گہرے پانیوں میں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ خراب موسم اور پانی کی گہرائی کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے اور عوام کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرے۔ فیری کے ڈوبنے کی وجوہات کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔


