پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے ایک تہلکہ خیز بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ شفیع جان نے یہ ریمارکس جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دیے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق، حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرنے یا ان کی تعمیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ریاست کے بنیادی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی حکمت عملی نہ صرف عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہے۔ شفیع جان کا یہ بیان حکومتی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتا ہے، خاص طور پر جب ملک میں آئینی اور قانونی بحرانوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک صوبائی وزیر کی جانب سے اس نوعیت کا اعتراف سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا حکومتی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کی توقع ہے، جو پہلے ہی حکومت پر عدلیہ کو کمزور کرنے اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ اس بیان پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔


