بھارتی سپریم کورٹ نے خطرے سے دوچار ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہاتھیوں کو بھگانے کے لیے استعمال ہونے والی ‘ہلا پارٹیوں’ پر پابندی عائد کر دی ہے جو آگ کا استعمال کرتی ہیں، اور ان راہداریوں کا سروے کرانے کا حکم دیا ہے جو ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ اقدامات ہاتھیوں کی آبادی کو بچانے اور انسانی-ہاتھی تنازعات کو کم کرنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔
عدالت نے خاص طور پر ‘ہلا پارٹیوں’ کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی ہے۔ یہ پارٹیاں عام طور پر دیہی علاقوں میں ہاتھیوں کے ریوڑوں کو کھیتوں یا رہائشی علاقوں سے دور بھگانے کے لیے آگ، دھواں اور شور کا استعمال کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس عمل کو ہاتھیوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے، کیونکہ یہ انہیں زخمی کر سکتا ہے، ان میں خوف و ہراس پھیلا سکتا ہے اور بعض اوقات انہیں مزید انسانی آبادیوں کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس سے تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
مزید برآں، سپریم کورٹ نے ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والی راہداریوں کا جامع سروے کرانے کا حکم دیا ہے۔ ان راہداریوں کا تحفظ ہاتھیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، ان کی قدرتی رہائش گاہوں تک رسائی اور ان کی جینیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ بھارت میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد انسان اور ہاتھی کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا اور خطرے سے دوچار ان عظیم الجثہ جانوروں کو معدومیت سے بچانا ہے۔


