شام کے وزیر خارجہ نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، حالانکہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ دمشق نے واضح کیا ہے کہ تل ابیب کو پہلے شام پر اپنے حملے روکنے ہوں گے تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کوشاں ہے۔
شامی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے شام کی سرزمین پر فضائی حملے جاری رہیں گے، بامعنی مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں۔ دمشق کا مؤقف ہے کہ ایسے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ان حملوں کے خاتمے کو ہی اعتماد سازی کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد ہی کسی بھی قسم کے سیکیورٹی مذاکرات کی کامیابی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور دہائیوں پر محیط دشمنی نے اس عمل کو ہمیشہ مشکل بنائے رکھا ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ سیکیورٹی مذاکرات خطے میں استحکام لانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن دمشق کی جانب سے حملے روکنے کی شرط ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔



