تہران: ایران نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو نئی وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جو بحری جہاز اس کے ٹرانزٹ قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں مستقبل میں گزرنے کے دوران جرمانے، حراست یا یہاں تک کہ ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے گرد کشیدگی بدستور عروج پر ہے۔
ایران کی خلیج فارس آبی گزرگاہ انتظامیہ نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور کارگو مالکان کو اس بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔ ان نئے سخت قوانین کا اطلاق تجارتی بحری جہازوں پر ہوگا جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، اور ان کا مقصد ایران کی سمندری حدود میں نقل و حرکت کو مزید منظم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے ان اقدامات کو خطے میں اپنی سمندری خودمختاری کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
