جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک کی ابتر معاشی صورتحال کے باوجود ایک اہم سیاسی شخصیت پر 11 ارب روپے کا نجی طیارہ خریدنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو قومی وسائل کا ضیاع اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک سنگین مالی بحران کا شکار ہے، مہنگائی عروج پر ہے اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، حکمران طبقے کی جانب سے ایسی شاہ خرچیاں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مریم بی بی (ممکنہ طور پر مریم نواز شریف کی طرف اشارہ) پر الزام لگایا کہ انہوں نے 11 ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک نجی طیارہ خریدا ہے، جو کہ ملک کی موجودہ اقتصادی حالت کے بالکل برعکس ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ یہ عمل حکمرانوں کی عوام سے دوری اور ان کی مشکلات سے بے خبری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس خریداری کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کا احتساب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت کفایت شعاری اور سادگی کی اشد ضرورت ہے نہ کہ شاہانہ طرز زندگی۔
