آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل اپنے اگلے اور انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں وزیراعظم کے انتخاب کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد، سیاسی جماعتیں اسمبلی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور حکومت سازی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اس مرحلے میں نہ صرف وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا بلکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے چناؤ پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ حکومت کی سمت متعین ہوگی۔
انتخابی نتائج کے بعد، پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت سازی کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ پارٹی قیادت نے وزیراعظم کے امیدوار کے انتخاب کے لیے مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے، جس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور نو منتخب اراکین اسمبلی سے رائے لی جا رہی ہے۔ مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی حتمی امیدوار کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس دوران، دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں تاکہ ایوان میں اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کر سکیں۔
آزاد کشمیر کے عوام کی نظریں اس وقت اسمبلی پر لگی ہوئی ہیں، جہاں ایک مستحکم اور فعال حکومت کی تشکیل کی امید کی جا رہی ہے۔ نئی حکومت کو خطے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور گڈ گورننس جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے بعد، کابینہ کی تشکیل اور پالیسیوں کا اعلان کیا جائے گا، جو آزاد کشمیر کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ تمام مراحل مکمل ہو جائیں گے اور آزاد کشمیر کو اپنی نئی قیادت مل جائے گی۔
