پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کو آئندہ ویمنز ایشیا کپ سے قبل ایک بڑا دھچکا لگا ہے، جب ٹیم کی اہم کھلاڑی نجیہہ علوی انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہیں۔ یہ خبر ٹیم انتظامیہ اور شائقین کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ علوی ٹیم کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی غیر موجودگی سے ٹیم کے توازن پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ابھی تک نجیہہ علوی کی انجری کی نوعیت اور ان کی جگہ لینے والی کھلاڑی کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق انجری کی شدت ایسی ہے کہ وہ ایشیا کپ میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ ٹیم کو اب ان کی کمی پوری کرنے کے لیے متبادل کھلاڑیوں پر انحصار کرنا ہوگا اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑ سکتی ہے۔
اس مشکل صورتحال میں، ٹیم کو دیگر کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کی اشد ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر صدف شمس جیسی کھلاڑیوں کی حالیہ فارم ٹیم کے لیے امید کی کرن ہے۔ صدف شمس نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے، انہوں نے آخری 9 ون ڈے میچز میں 488 رنز بنائے ہیں جس میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی یہ فارم ایشیا کپ میں پاکستان کی کامیابی کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتی ہے اور وہ انجری کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔




