آکلینڈ، نیوزی لینڈ: نیوزی لینڈ میں ایک مذہبی فرقے کے سربراہ کو اپنے ایک چینی پیروکار کی ہلاکت کے الزام میں قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ 70 سالہ شولائی وانگ کی لاش 2024 میں آکلینڈ کے قریب ایک مرینا کے پاس سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ یہ واقعہ ملک میں مذہبی فرقوں کے کردار اور ان کے پیروکاروں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فرقے کے سربراہ، جسے ‘ماسٹر لی’ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے شولائی وانگ کو بیماری کی حالت میں مناسب طبی امداد فراہم کرنے سے روکا تھا، اور اس کے بجائے ‘روحانی علاج’ پر زور دیا تھا۔ استغاثہ نے الزام لگایا کہ ماسٹر لی کی لاپرواہی اور غلط رہنمائی کے نتیجے میں وانگ کی صحت بگڑتی چلی گئی اور بالآخر وہ موت کے منہ میں چلی گئیں۔ پولیس نے لاش کی برآمدگی کے بعد تفصیلی تحقیقات کیں، جس میں فرقے کے اندرونی معاملات اور وانگ کی موت کے حالات پر روشنی ڈالی گئی۔ ماسٹر لی کو غیر ارادی قتل اور لاپرواہی سے موت کا سبب بننے کے الزامات کا سامنا تھا۔
‘روحانی روشنی’ نامی یہ فرقہ، جو خود کو روحانی بیداری اور شفا یابی کا مرکز قرار دیتا تھا، ایشیائی تارکین وطن میں خاص طور پر مقبول تھا جو نیوزی لینڈ میں تنہائی اور ثقافتی ایڈجسٹمنٹ کے مسائل کا شکار تھے۔ شولائی وانگ بھی انہی میں سے ایک تھیں جو بہتر صحت اور روحانی سکون کی تلاش میں اس فرقے سے وابستہ ہوئی تھیں۔ اس فیصلے کو مذہبی آزادی کی آڑ میں ہونے والے استحصال کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام کو ایسے فرقوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے جو طبی علاج کو نظر انداز کرنے اور اپنے پیروکاروں کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ کیس نیوزی لینڈ میں مذہبی گروہوں کی نگرانی اور ان کے احتساب کے طریقہ کار پر بھی بحث کا باعث بنا ہے۔




