اسلام آباد – پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ-ایران تنازع میں مزید کشیدگی کو روکنے کے مقصد سے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی مشن کے بعد تہران سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی واپسی کے فوراً بعد، عرب میڈیا آؤٹ لیٹس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے ایرانی قیادت کو امریکہ کی ایک اہم تجویز پہنچائی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے نازک وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اپنے دورہ تہران کے دوران، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ تاہم، عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، اس دورے کا اصل محور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے ایک خفیہ پیغام کی ترسیل تھا۔
اگر عرب میڈیا کے یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی ایک اہم کامیابی ہوگی، جو دو متحارب قوتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے اور اس طرح کے اعلیٰ سطحی سفارتی مشن اس عزم کا مظہر ہیں۔ اس پیشکش کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن اس اقدام سے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کے لیے ایک راستہ کھل سکتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔





