اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 15 شیرخوار بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حکام نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے جو 26 اگست 2026 کو پیش آیا۔ رائٹرز کے مطابق، پولیس افسران کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے باہر ایمبولینس کے قریب حرکت کرتے دیکھا گیا جب آگ بجھانے کی کوششیں جاری تھیں۔
ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ حادثے کے وقت نرسری میں کل 16 نوزائیدہ بچے موجود تھے، جن میں سے 15 اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ یہ واقعہ ہسپتال کے گائنی وارڈ میں پیش آیا جہاں نومولود بچوں کو خصوصی نگہداشت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد ہسپتال میں افراتفری کا عالم تھا اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔ اس واقعے نے پورے ملک میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے اور والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس ہولناک واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ آگ لگنے کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ حکومتی سطح پر بھی اس واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔




