اسلام آباد: وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے ملک میں نیٹ میٹرنگ کی منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ریگولیٹری ادارے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد قابل تجدید توانائی کے فروغ اور صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔ طویل عرصے سے جاری تاخیر اور صارفین کی شکایات کے پیش نظر، اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو توانائی کے شعبے میں بہتری لائے گا۔
نیٹ میٹرنگ ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت صارفین اپنے گھروں یا کاروباری اداروں میں شمسی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرتے ہیں اور اسے قومی گرڈ میں شامل کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں انہیں بجلی کے بلوں میں کمی یا کریڈٹ ملتا ہے۔ ریگولیٹری ادارے نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ نیٹ میٹرنگ کے درخواست دہندگان کو درپیش مشکلات کو دور کرے اور منظوری کے عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنائے۔ ان ہدایات میں خاص طور پر بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے اور صارفین کو سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا تھا تاکہ قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
پاور ڈویژن کے اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوگا اور بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کی جانب ایک قدم آگے بڑھا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ منظوری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے اور متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو کم سے کم وقت میں نیٹ میٹرنگ کی سہولت میسر آ سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی بھی آئے گی اور صارفین کو مالی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔




