اسلام آباد: پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 معصوم بچوں کی میتیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے باعث پیش آیا تھا جس نے کئی خاندانوں کو غم میں ڈبو دیا اور ملک بھر میں سوگ کی فضا طاری کر دی۔
میتوں کی حوالگی کے موقع پر اسپتال کے باہر غمزدہ ورثاء کی بڑی تعداد موجود تھی، جہاں بعض خاندانوں نے شدید احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بچوں کی شناخت کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اور کئی ورثاء نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے بچوں کی حتمی شناخت کا مطالبہ کیا۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے باعث بعض میتیں ناقابل شناخت ہو چکی ہیں، جس کے باعث انہیں اپنے پیاروں کی شناخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے ورثاء کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے اور شناخت کے عمل میں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، اور وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، آتشزدگی کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم مزید حقائق جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ حکام نے ورثاء کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ سمیت تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ہر بچے کی شناخت یقینی بنائی جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

