اسلام آباد: قید سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں حکومتی عہدیداروں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔ ان عہدیداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔
18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت سے متعلق درخواستوں پر کئی ہدایات جاری کی تھیں اور حکام کو ہدایت کی تھی کہ انہیں نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔ تاہم، حکومت نے پی ٹی آئی کے بانی کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنے کے لیے لے جانے کے بعد واپس جیل منتقل کر دیا۔
24 اگست کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 16 ستمبر کے لیے مقرر کی تھی، جب جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
جمعرات کو ایڈووکیٹ عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے دائر کی گئی تازہ درخواست میں حکومتی عہدیداروں کے خلاف موجودہ یا اگلے ہفتے کے اوائل میں توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کی درخواست کا مقصد 18 اگست کے حکم پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جلد سماعت سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، زندگی اور صحت کا تحفظ یقینی بنے گا اور سپریم کورٹ کے احکامات پر مناسب عمل درآمد ہو سکے گا۔



