اسلام آباد – پاکستان کے اربوں ڈالر کے دیامر بھاشا ڈیم کے گرد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جب سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آئے کہ حکومت نے منصوبے کے 4500 میگاواٹ ہائیڈرو پاور جزو کو ترک کر دیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے ڈیم کو صرف پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے کے طور پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس کی بجلی پیدا کرنے کی سہولیات کو ختم کر دیا گیا ہے۔
ان دعوؤں کے مطابق، دیامر بھاشا ڈیم جو کہ پاکستان کے لیے توانائی اور پانی کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے، اب صرف پانی کے ذخائر کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے گا اور اس سے بجلی پیدا کرنے کا مقصد پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ان افواہوں نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور حکومت سے اس معاملے پر فوری وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ منصوبے کی اصل حیثیت اور اس کے مستقبل کے بارے میں سرکاری موقف کا انتظار ہے تاکہ اس اہم قومی منصوبے کے حوالے سے جاری ابہام کو دور کیا جا سکے۔



