پاکستان میں ایم جی ہائبرڈ گاڑیوں کے خریداروں کو اب نئی قیمتوں کا سامنا ہے، کیونکہ حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، ہائبرڈ گاڑیاں اب معیاری 25 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کے تحت آئیں گی، جس سے ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
برطانوی آٹو ساز کمپنی ایم جی نے اگرچہ اس ٹیکس اضافے کا پورا بوجھ ایک ساتھ صارفین پر منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مرحلہ وار حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خریداروں کو ادا کی جانے والی رقم کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انہوں نے گاڑی کب بک کروائی تھی یا کب ڈیلیوری حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اقدام صارفین پر فوری مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
حکومت کے اس اقدام سے ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درآمدی پابندیوں کے باعث چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں یہ اضافہ نہ صرف ہائبرڈ گاڑیوں کو مزید مہنگا کرے گا بلکہ ممکنہ طور پر صارفین کو روایتی پٹرول گاڑیوں کی طرف دوبارہ راغب کر سکتا ہے، یا پھر گاڑیوں کی خریداری کو مزید مشکل بنا دے گا۔



