سابق وزیر صحت نے کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں صحت کے بحران کو تسلیم کرکے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال نے اس اہم مسئلے پر کھلے عام ذمہ داری قبول کی ہے، جو کہ ایک مثبت اور قابل تحسین قدم ہے۔
سابق وزیر صحت کے مطابق، کسی بھی عوامی نمائندے کی جانب سے ملک کو درپیش چیلنجز، خاص طور پر صحت جیسے بنیادی شعبے میں موجود سنگین مسائل کا اعتراف کرنا قابل تحسین ہے۔ پاکستان میں صحت کا شعبہ طویل عرصے سے مختلف مسائل جیسے ناکافی فنڈنگ، بنیادی ڈھانچے کی کمی، اور ڈاکٹروں و طبی عملے کی قلت کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں ایک اہم سیاسی شخصیت کا اس بحران کو تسلیم کرنا حل کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے اور یہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدگی کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کمال کا یہ بیان نہ صرف ملک میں صحت کی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔ سابق وزیر صحت نے امید ظاہر کی کہ اس اعتراف کے بعد عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ پاکستانی عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ یہ اخلاقی جرات ہی ہے جو کسی بھی قوم کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔

