اسلام آباد: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں، پاکستان یمن کو دی جانے والی فوجی امداد پر درخواست کی صورت میں نظرثانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری کا یہ بیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں، اور پاکستان ہمیشہ سے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم رہا ہے۔ یمن میں جاری تنازعہ اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے ہوئے ہیں، جس پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ “ایم جے ڈی اے” (MJDA) تین ممالک کی مشترکہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام اور اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ یمن کو فوجی امداد پر نظرثانی کا امکان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان علاقائی حرکیات اور اپنے قومی مفادات کے مطابق اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔





