سنگاپور: پیر کے روز عالمی تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ اضافہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کی فراہمی کی سیکیورٹی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کا نتیجہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق، برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 3.10 ڈالر یا 4.08 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد 0325 GMT تک یہ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے نرخوں میں بھی اسی نوعیت کا رجحان دیکھا گیا، جو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب اور سپلائی کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں، اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو تیل کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔



