ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کارڈ کا بے جا استعمال ایران کو عالمی سطح پر ایک ‘تنہا ریاست’ (pariah state) میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس پر ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایران کو شدید بین الاقوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران ماضی میں امریکی پابندیوں یا فوجی دباؤ کے جواب میں اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسی کوئی بھی حرکت عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور توانائی کی فراہمی میں شدید خلل کا باعث بنے گی۔ یہ اقدام عالمی برادری کو ایران کے خلاف سخت ردعمل پر مجبور کر سکتا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اس طرح کی حکمت عملی ایران کو عالمی سطح پر مزید سفارتی اور اقتصادی طور پر الگ تھلگ کر دے گی۔ بین الاقوامی طاقتیں، خاص طور پر تیل پر انحصار کرنے والے ممالک، ایران کے اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھیں گے اور اس کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایران کے لیے مزید پابندیوں کا باعث بنے گا بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے، جس کے نتائج ایران کے اپنے مفادات کے خلاف جائیں گے۔
