آسٹریلیا نے پیغام رسانی کی مشہور ایپ ٹیلی گرام کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایپ پر ‘دہشت گردی کی حمایت’ پر مبنی مواد کو ہٹانے میں ناکامی کے مبینہ الزامات کے بعد کی گئی ہے۔ آسٹریلوی حکام کا دعویٰ ہے کہ ٹیلی گرام نے اپنی پلیٹ فارم پر ایسے مواد کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جو دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا انہیں فروغ دیتا ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں، ٹیلی گرام نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی پلیٹ فارم پر غیر قانونی مواد کے خلاف سخت پالیسیاں رکھتی ہے اور ان پر عمل درآمد بھی کرتی ہے۔ ٹیلی گرام کے ترجمان نے کہا کہ وہ ان الزامات کا عدالت میں بھرپور دفاع کریں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے۔ یہ معاملہ آن لائن پلیٹ فارمز پر مواد کی نگرانی اور آزادی اظہار رائے کے درمیان توازن قائم کرنے کے عالمی مباحثے کا حصہ ہے۔
یہ عدالتی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپس پر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ آسٹریلیا کی یہ کارروائی دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے جو آن لائن پلیٹ فارمز کو اپنے قوانین کے تحت لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقدمے کا نتیجہ ٹیلی گرام اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مستقبل میں مواد کی نگرانی کی پالیسیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کی ہو۔







