ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد، ان کا جسد خاکی ایک چار روزہ سوگوار سفر پر روانہ ہوگا جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ابتدائی طور پر، ان کا جسد خاکی تہران میں آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جہاں سے یہ جلوس اپنا سفر شروع کرے گا۔ یہ جلوس نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہوگی بلکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت اور ان کے اثر و رسوخ کا بھی عکاس ہوگا۔
یہ جلوس شیعہ اسلام کے چند مقدس ترین مقامات کا دورہ کرے گا، جس میں ایران اور عراق کے پانچ اہم شہر شامل ہیں۔ تہران کے بعد، جلوس کو قم اور مشہد جیسے ایران کے مقدس شہروں میں لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں عقیدت مند اپنے رہنما کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ عراق میں، نجف اور کربلا جیسے مقدس مقامات پر بھی جلوس کے پہنچنے کی توقع ہے، جو شیعہ مسلمانوں کے لیے گہری مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔
حکام نے اس بڑے پیمانے پر ہونے والے اجتماع کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں تاکہ لاکھوں سوگواروں کی آمد و رفت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ چار روزہ سوگوار سفر خطے میں ایک تاریخی واقعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو لاکھوں افراد کو اپنے رہنما کو الوداع کہنے کے لیے اکٹھا کرے گا اور ان کی خدمات کو یاد کیا جائے گا۔


