اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مسلح افراد کے خلاف “آہنی ہاتھ” سے نمٹیں۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔
یہ حملہ جمعہ کے روز کرک گورنریٹ میں دن دہاڑے کیا گیا، جہاں حملہ آوروں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔ یہ اردن کی مسیحی اقلیت پر ایک غیر معمولی حملہ تھا جس میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے۔
عمان میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ ملک بھر میں شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر اہم مقامات پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ سینٹ جارج یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے ایک پادری تھیوڈوروس سویس نے رائٹرز کو بتایا کہ کس طرح انہوں نے اور دیگر لوگوں نے موجود افراد کو زمین پر لیٹنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، فائرنگ اندھا دھند تھی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ گولی کہاں لگ سکتی ہے۔”
شاہ عبداللہ دوم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس “قابل مذمت دہشت گردانہ کارروائی” کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اردنی شہریوں کی جانوں کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ایک نسبتاً مستحکم ملک اردن میں ایسے حملے انتہائی غیر معمولی ہیں۔ فوری طور پر کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اردن عسکریت پسند گروہوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حملہ آوروں کا اردن کے اندر یا باہر کسی معروف گروہ سے تعلق تھا یا نہیں۔




