نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بدھ کو 33ویں آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے منیلا پہنچ گئے ہیں۔ یہ اطلاع دفتر خارجہ نے دی ہے۔
دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ اسحاق ڈار کے لیے مصروفیات کا ایک بھرپور شیڈول ہے، جس میں اے آر ایف کے مکمل اجلاس میں شرکت اور سائیڈ لائنز پر ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان کی آمد پر فلپائن کے محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ایلمر جی کیٹو، فلپائن میں پاکستان کی سفیر عاصمہ ربانی اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔
منگل کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں اے آر ایف کے 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور وفود شرکت کریں گے، جبکہ آسیان کے سیکرٹری جنرل بھی اس اجلاس میں موجود ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار ایشیا پیسیفک خطے کو متاثر کرنے والے سیاسی اور سلامتی کے مسائل پر ہونے والی بات چیت میں حصہ لیں گے، جس میں مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن، استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر فلپائن کے ہم منصب اور کئی دیگر شریک معززین کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، 1994 میں قائم ہونے والا اے آر ایف علاقائی سلامتی کے مسائل پر کثیرالجہتی مشاورت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم رہا ہے۔



