اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے باوجود، کسی بھی جماعت یا بلاک کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر سیاسی تعطل کی طرف دھکیل رہی ہے، جہاں مخلوط حکومت کی تشکیل ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک سب سے آگے ہے، لیکن وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے محروم نظر آتا ہے۔ اس صورتحال میں، نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پیچیدہ مذاکرات کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ ماضی میں بھی کئی بار ناکام رہ چکے ہیں۔
اسرائیل گزشتہ چند سالوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، اور یہ چوتھا عام انتخاب تھا جو کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر آئندہ دنوں میں کوئی مستحکم مخلوط حکومت تشکیل نہیں دی جا سکی، تو ملک کو ایک بار پھر نئے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ اسرائیلی سیاست میں ایک معمول بن چکا ہے۔

