تل ابیب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل 2026 کے عام انتخابات کے بعد ایک نئے سیاسی تعطل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ 120 رکنی کنیست میں اپوزیشن جماعتوں اور عرب قانون سازوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے نیتن یاہو کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل نہیں ہو سکیں۔ اس صورتحال نے حکومت سازی کے عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں نیتن یاہو کو ایک مستحکم حکومت بنانے کے لیے وسیع تر اتحاد کی ضرورت پڑے گی۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور عرب قانون سازوں نے اپنی نشستوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے انہیں آئندہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک بار پھر نئے انتخابات کی طرف جا سکتا ہے اگر کوئی بھی جماعت یا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ نیتن یاہو، جو طویل عرصے سے اسرائیل کے وزیر اعظم رہے ہیں، کو اب اپنے سیاسی کیریئر کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک کا سامنا ہے۔ عرب قانون سازوں کا کردار اس بار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی حمایت کے بغیر کسی بھی اتحاد کے لیے اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔ یہ صورتحال اسرائیلی سیاست میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

