اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولز میں کسی واضح فاتح کے سامنے نہ آنے کے باعث سیاسی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ تل ابیب 125 انڈیکس میں 2 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ گراوٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر یا مخلوط حکومت کی کمزور بنیادیں معاشی پالیسیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کا براہ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑتا ہے، جس سے مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔
تل ابیب 125 انڈیکس، جو اسرائیل کی سب سے بڑی کمپنیوں کی کارکردگی کا پیمانہ ہے، میں 2 فیصد سے زیادہ کی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔ یہ صورتحال مستقبل کی حکومتی پالیسیوں اور معاشی سمت کے بارے میں غیر یقینی کی عکاسی کرتی ہے، جو ملک کی مجموعی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
