اسرائیل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اپنی افواج کا انخلا اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی اور سرحد پار حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوج کی موجودگی کا مقصد اپنی شمالی سرحدوں کا دفاع یقینی بنانا اور حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ سخت مؤقف مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حزب اللہ ایک سیاسی اور عسکری قوت ہے جس کی لبنان میں گہری جڑیں ہیں، اور اس کی غیر مسلح کاری کا مطالبہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر لبنان کے اندر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس شرط کے ساتھ، اسرائیل دراصل ایک ایسی صورتحال پیدا کر رہا ہے جہاں کسی بھی قسم کے امن مذاکرات یا سرحد کی حد بندی کے معاہدے تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
خطے کے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں، اور اسرائیل کی یہ نئی شرط ان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں کو مزید دھندلا سکتی ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مزید فعال کردار ادا کرے۔


