پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے تحت شہر کے لیے ایک منتخب وزیراعلیٰ کا عہدہ تخلیق کرنے کا امکان ہے۔ یہ اہم قدم اسلام آباد کے انتظامی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو زیادہ نمائندگی فراہم کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد اداروں کے درمیان کام کی دہرائی کو کم کرنا اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے میں ‘سمارٹ سٹی’ ماڈل کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو حکومتی ڈھانچے کی مکمل تبدیلی کو ڈیجیٹل انقلاب کے ساتھ مربوط کرے گا۔ اس سے نہ صرف انتظامی عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ شہریوں کو بھی بہتر اور تیز تر خدمات میسر آئیں گی۔
ان اصلاحات کے لیے ایک پانچ سالہ روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جس کا ہدف شہری حکومتی نظام میں جامع تبدیلی لانا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت اسلام آباد کو ایک جدید اور خود مختار شہری مرکز بنانے کی کوشش کی جائے گی جہاں مقامی آبادی کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے معاملات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا موقع ملے۔ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔





