اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک اہم تحریری فیصلے میں یہ ریمارکس دیے ہیں کہ آئینی عدالتیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں ہیں اگر وہ قانون کے مطابق نہ ہوں۔ ان ریمارکس نے ملک کے عدالتی نظام میں آئینی عدالتوں کے دائرہ اختیار اور سپریم کورٹ کی نظیروں کی پابندی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصول و ضوابط صرف اسی صورت میں قابل عمل ہوں گے جب وہ آئین اور مروجہ قانون کے عین مطابق ہوں۔ چیف جسٹس نے زور دیا کہ آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ کسی بھی اصول کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں اور اگر وہ قانون سے متصادم پایا جائے تو اس پر عمل درآمد سے انکار کر سکیں۔ یہ موقف عدالتی آزادی اور آئینی تشریح کے وسیع تر اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق کے یہ ریمارکس پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ہائی کورٹس کے کردار کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئینی عدالتیں محض نچلی عدالتیں نہیں ہیں بلکہ آئین کے محافظ کے طور پر اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے قانون کی آزادانہ تشریح کا حق رکھتی ہیں۔ یہ فیصلہ مستقبل میں عدالتی نظیروں کی تشریح اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، اور قانونی حلقوں میں اس پر مزید بحث و مباحثہ متوقع ہے۔



