اسلام آباد – اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول جھیل کے کنارے واقع پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل سنگل بینچ نے سنایا، جس کے بعد ان دونوں نیول تنصیبات کو قانونی حیثیت دوبارہ حاصل ہو گئی ہے۔
عدالت نے نیول سیلنگ کلب کی عمارت کو مسمار کرنے کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کے خلاف بدعنوانی اور فوجداری کارروائی کا حکم دینے والے فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایڈمرل عباسی کے لیے ایک بڑی قانونی راحت ہے۔
اس عدالتی حکم سے پاکستان نیوی کے ان اہم منصوبوں کو قانونی حیثیت دوبارہ حاصل ہو گئی ہے، جو پہلے غیر قانونی قرار دیے گئے تھے۔ یہ فیصلہ نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو گا اور ان منصوبوں کی تعمیر و ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔






