افریقی اور کیریبین ممالک کے رہنماؤں نے بحر اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت (transatlantic slave trade) کے تاریخی ظلم پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ان ممالک سے کیا گیا ہے جو اس شرمناک تجارت سے مستفید ہوئے اور جنہوں نے صدیوں تک افریقیوں کو غلام بنا کر ان کا استحصال کیا۔
ان رہنماؤں نے صرف معافی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قرضوں میں ریلیف (debt relief) اور مالی معاوضے (financial compensation) کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدیوں پر محیط اس غلامی کے نظام نے افریقی اور کیریبین خطوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ مغربی ممالک اس سے بے پناہ دولت کما کر ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تاریخی ناانصافیوں اور نسل پرستی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ افریقی اور کیریبین اقوام کا یہ موقف ہے کہ جب تک ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کے نتائج کی تلافی نہیں کی جاتی، حقیقی انصاف اور مساوات کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
