اقوام متحدہ کا انتباہ: مصنوعی ذہانت میں ‘مواقع کا عدم توازن’ عالمی عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے

اقوام متحدہ کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) ایجنسی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) تک غیر مساوی رسائی دنیا بھر میں عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غریب اور ترقی پذیر ممالک کو AI ٹیکنالوجی کے فوائد تک یکساں رسائی حاصل نہ ہوئی تو وہ عالمی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔

عہدیدار نے اس صورتحال کو ‘مواقع کی تقسیم’ (Opportunity Divide) قرار دیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جو کہ مستقبل کی معیشتوں اور معاشروں کی بنیاد بن رہی ہے، اس تک رسائی میں عدم توازن عالمی سطح پر دولت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں موجود عدم مساوات کو مزید بڑھاوا دے سکتا ہے۔

اس انتباہ کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے فوائد کو سب تک پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو غریب اقوام نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ سماجی اور تکنیکی لحاظ سے بھی پسماندگی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ عہدیدار عالمی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس ‘مواقع کے عدم توازن’ کو دور کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تاکہ کوئی بھی ملک اس انقلابی ٹیکنالوجی کے ثمرات سے محروم نہ رہے۔

  • Related Posts

    یورپ میں عوامی احتجاج: کیا یہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں؟

    یورپ کے مختلف ممالک میں شہری اپنے حقوق کے حصول اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ یہ عوامی مظاہرے، جو معاشی ناہمواری،…

    امریکی اور اسرائیلی انتخابات: نئے قائدین، وہی پالیسیاں؟

    جمہوری نظام میں انتخابات کا مقصد عوام کی رائے کی عکاسی کرنا اور قیادت میں تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل، دونوں ہی دنیا کے اہم جمہوری ممالک ہیں…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔