اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سیاسی جماعت ’عوام پاکستان‘ کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ڈی لسٹ کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق، یہ اقدام الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208 اور 209 کی خلاف ورزی پر کیا گیا ہے، جو تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے لیے باقاعدگی سے اندرونی انتخابات کرانا لازمی قرار دیتا ہے۔ جماعت کو اس ضمن میں متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تھے لیکن وہ مقررہ مدت میں اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔
شاہد خاقان عباسی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ’عوام پاکستان‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ ملک کو ایک نئی اور شفاف سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ تاہم، ان کی جماعت الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط پر پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ انٹرا پارٹی انتخابات کا مقصد جماعتوں کے اندر جمہوری عمل کو فروغ دینا، شفافیت کو یقینی بنانا اور قیادت کے انتخاب میں اراکین کی رائے کو شامل کرنا ہوتا ہے، تاکہ سیاسی جماعتیں حقیقی معنوں میں جمہوری اقدار کی عکاسی کر سکیں۔
اس ڈی لسٹنگ کے بعد، ’عوام پاکستان‘ اب الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے طور پر موجود نہیں رہے گی اور آئندہ انتخابات میں کسی انتخابی نشان کے تحت حصہ نہیں لے سکے گی۔ یہ فیصلہ شاہد خاقان عباسی کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو اب یا تو کسی اور جماعت میں شامل ہوں گے یا ایک نئی سیاسی حکمت عملی اپنائیں گے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ انہیں اپنے اندرونی جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔




