امریکی، میکسیکن اور کینیڈین حکام کے درمیان سرحد پار تجارتی معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی تجارتی ماہر نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان مذاکرات میں رکاوٹ کے باعث ‘بیجنگ قہقہے لگا رہا ہے’۔ یہ تبصرہ شمالی امریکہ کے خطے میں تجارتی تعلقات کی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کے ممکنہ اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کو ایک جامع سرحد پار تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری طور پر سہ فریقی مذاکرات منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ایک مضبوط اور فعال تجارتی معاہدہ نہ صرف علاقائی معیشتوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ عالمی منڈی میں ان کی مسابقتی پوزیشن کو بھی مستحکم کرے گا۔
تجارتی مذاکرات میں تعطل سے نہ صرف ان ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت اور علاقائی اتحاد پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی اندرونی رکاوٹیں چین جیسے حریف ممالک کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں جو عالمی تجارتی منظر نامے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ لہٰذا، جلد از جلد ایک قابل عمل اور متفقہ حل تلاش کرنا تینوں ممالک کے طویل مدتی مفاد میں ہے۔



