اس ہفتے کے اوائل میں، امریکہ اور ایران بالآخر اپنے تنازعے کو روکنے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے۔ اس معاہدے میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا جسے عالمی برادری نے تسلیم کیا اور سراہا۔ لیکن کیا ملک کے لیے یہیں پر بات ختم ہو جاتی ہے؟ یا شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اس سفارتی نمائش اور اثر و رسوخ کو ایک ایسے نایاب موقع میں بدل سکتی ہے جو حقیقی معنوں میں ثمرات کا ضامن ہو؟
تاہم، اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتوں کی شدید سفارت کاری کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ کوئی مکمل امن معاہدہ نہیں ہے۔ یہ ایک عبوری فریم ورک ہے جس نے صرف ایک خطرناک محاذ آرائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے اور 60 دن کی مذاکراتی مدت فراہم کی ہے جس کے دوران سب سے مشکل سوالات، جن میں پابندیوں میں نرمی، جوہری پابندیاں اور علاقائی سلامتی کے انتظامات شامل ہیں، کو حل کرنا ہوگا۔
اس معاہدے کی نزاکت اس کے اختتام سے پہلے ہی واضح تھی، جب لبنان سے منسلک اختلافات نے آخری مراحل میں اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی دھمکی دی تھی، اور بالآخر قطر کو عمل درآمد کے طریقہ کار اور مالی ضمانتوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ یہ حقیقت اسلام آباد کو سب سے پہلے سمجھ لینی چاہیے۔ مذاکرات کا آغاز مشکل مرحلہ تھا، لیکن شاید اس سے بھی مشکل کام اس سفارتی پیش رفت کو پائیدار اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل کرنا ہوگا۔
پاکستان اس عمل میں کیوں شامل ہوا؟ پاکستان نے محض انسان دوستی کی بنیاد پر خود کو اس عمل میں شامل نہیں کیا؛ بلکہ اس کے اپنے بھی ٹھوس وجوہات تھے۔
