سنگاپور: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برینٹ خام تیل 93.50 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، ماربن خام تیل بھی تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی پیش رفت کی عدم موجودگی کے باوجود ہوا ہے، تاہم ایشیائی منڈیوں میں کچھ امید پرستی نے تجارتی ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے جاری بات چیت میں تاخیر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ اس معاہدے کی بحالی سے ایران کا تیل عالمی منڈی میں دوبارہ آ سکتا تھا، جس سے رسد میں اضافہ ہوتا اور قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا۔ تاہم، مذاکرات میں تعطل کے باعث سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی رسد محدود رہے گی، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اگرچہ ایشیائی منڈیوں میں کچھ مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، لیکن امریکہ-ایران معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافے اور رسد کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، آئندہ دنوں میں تیل کی منڈی پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔






