تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے نئے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سمندری راستے سے گزرنے والے بیشتر جہاز تیل اور گیس کی ترسیل کر رہے تھے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جہازوں کی آمدورفت میں یہ کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ شپنگ کمپنیاں اور عالمی تجارتی ادارے اس غیر یقینی صورتحال میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔


